بنگلورو،8؍فروری(ایس او نیوز)کرناٹک کے اسکولوں اور کالجوں میں مسلم طالبات کو حجاب پہن کر آنے سے روکے جانے کامعاملہ دن بہ دن شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اس سلسلہ میں ریاستی حکومت کی طرف سے عدالت کا فیصلہ آنے سے پہلے ہی حجاب پر پابندی لگاتے ہوئے حکم جاری کر دینے اور اس کے ساتھ وزیر تعلیم بی سی ناگیش کی طرف سے اس بیان کے بعد کہ حجاب پہن کر آنے والی طالبات کو کالجوں میں گھسنے نہ دیا جائے،صورتحال اور زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اب تک صرف اڈپی اور کندا پور تک محدود رہنے والا حجاب تنازعہ ریاست کے 10 اضلاع میں پھیل گیا اور ان اضلاع کے کالجوں میں حجاب پہن کر آنے والی لڑکیاں جہاں اپنا احتجاج کرتی رہیں۔
وہیں دوسری طرف زعفرانی شال پہن کر حجاب کی مخالفت کرنے کیلئے کالجس پہنچے والے طلباء کو بھی داخل ہونے سے روک دیا گیا۔ ایک نئی تبدیلی میں چکمگلور کے ایک کالج میں دلت طلباء حجاب کی حمایت میں میدان میں اتر گئے اور ان لوگوں نے نیلا رومال ڈال کر مسلم طالبات کو حجاب پہن کر کلاسوں میں آنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کرنا شروع کر دیا۔
اس دوران حجاب کے معاملہ میں ریاستی حکومت کی طرف سے سرکیولر جاری کرنے کے خلاف کرناٹک کی راجدھانی بنگلورو سمیت ریاست کے مختلف اضلاع میں مسلم خواتین نے احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کردیا اور مانگ کرنے لگیں کہ ریاستی حکومت کی طرف سے حجاب پر پابندی لگاتے ہوئے جو حکم نامہ جاری کیا گیا ہے اسے فوری طور پرو اپس لے لیا جائے۔
بنگلورو کی چامراج پیٹ عیدگاہ میں مسلم خواتین نے حجاب کی حمایت میں احتجاج کیا تو دوسری طرف ہاسن میں بڑی تعداد میں برقعہ پوش مسلم خواتین نے حجاب کی حمایت کرتے ہوئے ایک بڑا جلوس نکالا۔ اسی طرح بلگاوی، میسور اور ریاستی کے دیگر مقامات پر حجاب کی حمایت میں مسلم خواتین کی طرف سے مظاہروں اور ان کو دلت اور دیگر ترقی پسند تنظیموں کی طرف سے حمایت ملنے کی خبریں موصول ہوئی ہیں۔
آج ہائی کور ٹ میں سماعت: اس دوران ریاست میں ان دنوں گرم موضوع بنے ہوئے حجاب کے معاملہ پر کرناٹک ہائی کورٹ میں اڈپی کی ایک طالبہ اسماء کی طرف سے ہائی کور ٹ سے رجوع ہو کر اس بات کی اپیل کی گئی تھی کہ کالج میں طالبات کو حجاب کے ساتھ حاضر ہونے کی اجازت دی جائے۔ اس عرضی کی آج منگل کے روز ہائی کور ٹ میں سماعت ہو گی۔
گزشتہ ہفتہ ہی اس معاملہ میں ہائی کور ٹ نے سماعت کی تھی لیکن جب عدالت کو بتایا گیا کہ ریاستی حکومت کی طرف سے اس معاملہ کی پیروی ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل پربھولنگا نوادگی کریں گے،تو عدالت نے اس معاملہ میں ریاستی حکومت اور دیگر فریقوں کو نوٹس جاری کرنے کے بعد معاملہ کی اگلے سماعت کیلئے 8فروری کی تاریخ طے کی تھی۔
اس معاملہ میں سبھی کی نظریں عدالت کے فیصلہ پر ٹکی ہوئی ہیں کہ عدالت کی طرف سے طالبات کو حجاب کے استعمال کے ساتھ کلاسس میں حاضر ہونے کی راحت دی جائے گی یا پھر ریاستی حکومت کی طرف سے جاری حجاب پر پابندی کے حکم کو برقرار رکھا جائے گا۔